Monday, 18 May 2015

غزل

🌺🍃   غزل   🌺🍃

📖✒ شاعر " محسن نقوی

اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
حالات کی قبروں کے یہ کتبے بهی پڑها کر

کیا جانیئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے
خوابندہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر

اب دستکیں دے گا تو کہاں اے غم احباب
میں نے تو کہا تها کہ مرے دل میں رہا کر

ہر وقت کا ہنسنا تجهے برباد نہ کردے
تنہائی کے لمحوں میں کبهی رو بهی لیا کر

وہ آج بهی صدیوں کی مسافت پہ کهڑا ہے
ڈهونڈا تها جسے وقت کی دیوار گراکر

اے دل تجهے دشمن کی پہچان کہاں ہے
تو حلقئہ یاراں میں بهی محتاط رہا کر

میں مر بهی چکا ، مل بهی چکا موج ہوا میں
اب ریت کے سینے پہ مرا نام لکها کر

پہلا سا کہاں اب مری رفتار کا عالم
اے گردش دوراں ذرا تهم تهم کے چلا کر

اس رت میں کہاں پهول کهلیں گے دل ناداں
زخموں کو ہی وابستئہ زنجیر صبا کر

اک روح کی فریاد نے چونکا دیا مجهکو
تو اب تو مجهے جسم کے رنداں سے رہا کر

اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں "محسن "
دیکها ہے کئی بار چراغوں کو بجها کر

📒⭐✒ بهولی بسریں یادیں

میری ڈائری سے