Friday, 6 November 2015

Zawaale ashrafe makhlooq - Nadeem sirsavi


عنوان : 'زوال اشرف مخلوق '
نتیجہ فکر : سید ندیم حیدر نقوی (ندیم سرسوی)

رسوائیوں کی دھول اڑی دور دور تک ..
تہزیب کیا .. رہا نہیں باقی شعور تک ..
شرمندہ زیر قبر ہیں اہل قبور تک ..
یہ کہہ کے نوحہ پڑھتا ہے دین حضور تک ..

خلقت میں جو تھا دست مشیت کا شاہکار ..
وہ صرف بن کے رہ گیا تصویر ننگ و عار ..

دریائے بندگی میں روانی نہیں رہی ..
کردار مر چکے ہیں کہانی نہیں رہی ..
اخلاص کی کہیں بھی نشانی نہیں رہی ..
پیری نہیں رہی وہ جوانی نہیں رہی ..

سورج یہ لکھ کے شام کے دامن پہ ڈھل گیا ..
حیوان تو وہی رہے انساں بدل گیا ..

فرعونیت سرشت کا حصہ بنا چکا ..
نمرودیت کے نام کا سکہ جما چکا ..
شدادیت سے سر پہ جہاں کو اٹھا چکا ..
صدامیت کو اپنی رگوں میں بسا چکا ..

تب رب نے اوج اشرف مخلوق چھین کر ..
'بل ھم اضل' کہہ دیا پٹکھا زمین پر ..

تہزیب ما سلف کو فراموش کر دیا ..
شمع خرد کو جہل سے خاموش کر دیا ..
با ہوشی ضمیر کو بےہوش کر دیا ..
دستار کو اتار کے پا پوش کر دیا ..

پھر بھی نہیں ہے رخ پہ علامت ملال کی ..
اس سے بڑی مثال کوئی ہے زوال کی ... ؟؟!!!؟

شیوہ ہے سب کا  فخر و مباہات الاماں ..
بے رہروی ہے جزء کمالات الاماں ..
دنیا زدہ ہے رنگ خیالات الاماں ..
حق بات بن گئی ہے بری بات الاماں ..

اس وقت نامراد پہ ابلیس چھا گیا ...
یا رب کیا دور آخری نزدیک آ گیا ... ؟؟؟؟!!!!

عالم نے خامشی ہی کو حکمت بنا لیا
واعظ نے وعظ ہی کو تجارت بنا لیا ..
عابد نے خودنمائی عبادت بنا لیا ..
تاجر نے سود خوری کو عادت بنا لیا ..

یہ تلخ بات سب ہی کہیں گے عجب نہیں ..
میداں میں اپنے کوئی وفادار اب نہیں ..